پشاور : خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں 15 سالہ مدرسے کی طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ملزمان نے متاثرہ لڑکی کی ویڈیو بھی بنائی۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔
متاثرہ لڑکی کے والد کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق، ان کی بیٹی مدرسے جا رہی تھی کہ راستے میں ایک ملزم نے کپڑے گھر لے جانے کے بہانے اسے اپنے گھر بلایا۔ وہاں پہلے سے موجود ملزم کے دیگر دو ساتھیوں نے مل کر لڑکی کو یرغمال بنایا اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے اس گھناؤنے فعل کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ ریپ اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ کی سنگین دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، واقعے کی رپورٹنگ اور مقدمہ درج کرنے میں تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ مقامی علاقہ عمائدین (جرگے) کے ذریعے معاملے کو دبانے اور راضی نامے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ تاہم، پولیس نے اب قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
